گیانتی(کہانی)از مہیش سنگھ

گیانتی — مہیش سنگھ کی کہانی، دیہی ماحول میں ایک عورت کی زندگی اور داخلی کشمکش کی عکاسی کرتی تصویر۔

Short Story: Gyanti         

Author: Mahesh Singh

Translated by: Siraj Ahmad
PhD Scholar, Jawaharlal Nehru University (JNU), New Delhi

Translator’s Note:

This English translation seeks to faithfully convey the original Hindi story while preserving its literary tone, cultural context, and narrative nuances. Wherever necessary, expressions have been rendered idiomatically rather than literally to maintain the intended meaning and readability in English. No substantive additions or alterations have been made to the original text.

گیانتی — مہیش سنگھ کی کہانی، دیہی ماحول میں ایک عورت کی زندگی اور داخلی کشمکش کی عکاسی کرتی تصویر۔
گیانتی — مہیش سنگھ کی فکر انگیز کہانی

اب مجھے اِس گھر میں ایک پل بھی نہیں ٹھہرنا… چلی جا رہی ہوں… سب کچھ چھوڑ کر… ہاں ہاں، سب کچھ! لینا تو ایک ساڑی بھی نہیں چاہتی… مگر نہ لوں تو پہنوں گی کیا؟ اور اپنے زیور؟ اُنہیں کیسے چھوڑ دوں؟ یہ تو میرے ہیں۔ خاک میرے ہیں! جب جننے والے ہی میرے نہ رہے تو اِن زیوروں سے اب کیا واسطہ؟ اور کیا بھروسہ کہ جہاں جا رہی ہوں وہاں بھی کوئی اپنا ملے گا؟ جائے بھاڑ میں سب کچھ… اب کچھ نہیں سوچنا مجھے… بس، اب یہاں نہیں رہوں گی اور… اور انوپم تو میرا اپنا ہے۔ وہ جو کچھ بھی کرے گا میری بھلائی کے لیے ہی کرے گا۔ مجھے اُس پر بھروسہ رکھنا چاہیے، ویسے بھی کوئی اور راستہ کہاں بچا ہے’ — گیانتی کے ذہن میں طرح طرح کے خیالات گردش كررہے تھے، اور اُس کے ہاتھ پاؤں اِدھر اُدھر لپکتے ہوئے اپنے کام میں مصروف تھے۔ جب کپڑوں اور زیوروں سے بیگ ٹھسا ٹھس بھر گیا تو اُسے کچھ سکون سا ملا۔ کمرے میں چاروں طرف نظر دوڑائی، ‘کہیں کوئی ضروری چیز تو نہیں چھوٹ رہی’۔

کمرے کی حالت خستہ تھی۔ مٹی کی دیواریں، شہتیروں پر ٹکے کھپریل، گویا کسی بھی لمحے زمین بوس ہونے کو تیارہے۔ آدم زمانے کا بھاری بھرکم پنکھا سر پر لٹکا ہوا تھا۔ چلتا ہے تو چوں چوں کرتا ہے، گھومتا کہاں ہے! اِس کے گھومنے سے کہیں زیادہ تو اُس نے خود اپنے ہاتھ سے پنکھا جھلا ہوگا’۔ گوبر اور مٹی کی مانوس مہک اُس کے حواس میں اتر آئی۔ کل ہی تو پورا گھر لیپا تھا۔ لیپتے وقت اکیلے ہی ٹین کی الماری دوسری طرف کھسکائی تھی۔ پلنگ کے نیچے تک نہ پہنچ پاتی، اگر گرسین نہ آ جاتا… سب لوگ اسے گرسین ہی کیوں پکارتے ہیں، جبکہ نام تو اُس کا اُگرسین ہے… کتنا توانا اور جوان مرد ہے اُس کا شوہر، اکیلے ہی اُس بھاری بھرکم پلنگ کو اٹھا کر ایک طرف کھڑا کر دیا تھا’۔ گرسین کا خیال آتے ہی اُس نے اُس کی طرف دیکھا — بھینسے کی مانند اُسی پلنگ پر پڑا سو رہا تھا۔ لالٹین کی روشنی سیدھی اُس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ گال پر بیٹھے دو مچھر خون چوسنے میں محو تھے۔ نتھنے پھول پچک رہے تھے، اور منہ سے بہتی رال گال تک ڈھلک آئی تھی۔ اِس چہرے سے مجھے نفرت ہو گئی ہے… اِس کے ساتھ نہیں رہنا مجھے… آخر میرے بھی تو کچھ ارمان ہیں’ — وہ اِسی چڑچڑاہٹ میں الجھی ہوئی تھی کہ گرسین نے کروٹ بدلی۔ اُس کی آنکھوں کے سامنے ہی اُس کا چہرہ دوسری طرف گھوم گیا — کتنا معصوم، سیدھا سادہ، بھولا بھالا۔ غصے میں ہو یا محبت جتاتے وقت، وہ اُسے بھولوراما ہی کہہ کر پکارتی تھی… محبت؟ محبت تو کبھی کی ہی نہیں اپنے بھولوراما سے۔ ہاں، اُس کی سادگی اور بیل جیسی فرماں برداری پر ترس ضرور کھایا۔ مگر اب تو نفرت ہے… بس نفرت، خالص نفرت! اِسی لیے وہ اُسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دینا چاہتی تھی۔

موبائل کی گھنٹی بجی۔ دیکھا اور کال ملائی… انوپم کی آواز آئی: "کیا کر رہی ہو، بارہ بجنے کو ہیں… بجلی کسی بھی لمحے آ سکتی ہے، اور صبح چھ بجے سے پہلے اسٹیشن پہنچنا ضروری ہے… جلدی کرو۔” "اں… ہاں! بس نکلنے ہی والی تھی” — اُس کی غنودگی ٹوٹ گئی۔

"جلدی کرو، میں ٹیوب ویل کے پاس ہوں” — فون کٹ گیا۔

گیانتی کو اب تک خوف نے چھوا تک نہ تھا۔ اُس نے فوراً اپنا بھرا ہوا بیگ اٹھایا اور دروازہ کھول کر کمرے سے باہر نکل آئی۔ اچانک ٹھٹک گئی، پلٹ کر دیکھا — گرسین ابھی بھی سو رہا تھا… ‘آج دن بھر کھیتوں میں کام کیا ہوگا، تھک گیا ہوگا۔ تبھی تو ڈھنگ سے کھانا بھی نہ کھا سکا۔ آٹھ دس روٹیاں کھانے والا آج پانچ ہی میں سیر ہو گیا۔ آج کھیر بھی بنائی تھی، سوچا آخری بار اُس کی من پسند چیز کھلا دوں… مگر وہ بھی نہ کھائی۔ نہ کھائے، مجھے کیا؟ میں تو جا رہی ہوں… جا رہی ہوں میرے پیارے بھولوراما!’ — وہ اِتنی زور سے چلانا چاہتی تھی کہ یہ صدا گرسین کے کانوں تک جا پہنچے اور وہ جاگ کر دیکھے کہ گیانتی جا رہی ہے۔

اِسی سوچ کی گرہ میں کب وہ گرسین کے قریب چلی آئی، خبر ہی نہ ہوئی۔ اپنے آنچل سے خون چوستے مچھروں کو اُڑایا اور جھک کر غور سے اُس کا چہرہ تکنے لگی۔ محسوس ہوا کہ گرسین کی آنکھیں نم ہیں۔ لگا شاید رو رہا ہے، اِس لیے سر پر ہاتھ پھیر کر تسلی دی۔ جب یقین ہو گیا کہ وہ گہری نیند میں ہے تو سوچنے لگی — ‘اِس میں گرسین کا قصور ہی کیا ہے؟ اُس نے تو کبھی کچھ کہا بھی نہیں، وہ تو بس اپنے کام سے کام رکھتا ہے۔ یہی تو اُس کا قصور ہے… نہیں نہیں، اب اِس کے چكر میں نہیں پڑنا مجھے… جا رہی ہوں میں… ہاں بھولوراما، سن رہے ہو نا! میں تمہیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر جا رہی ہوں’ — اور آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ نکلا۔ چاہا کہ اُس کے لبوں کو چوم لے، مگر رال ابھی بھی گال سے چپکی تھی، سو ماتھے پر بوسہ دیا اور بیگ اٹھا کر آنگن پار کرتی، گھر کے پچھلے دروازے سے نکل گئی۔ پلٹ کر ایک بار بھی نہ دیکھا۔ بس کانوں میں بوڑھی ساس کے خراٹوں کی صدا گونجتی رہی۔

گاؤں پر چار سو اندھیرا چھایا تھا۔ دیوالی چار دن دور تھی، اِس لیے چاند بھی نہ نکلا تھا۔ بجلی ابھی تک نہ آئی تھی، حالانکہ اب تک آ جایا کرتی تھی — یہ الگ بات کہ جلد ہی رخصت بھی ہو جاتی۔ ویسے گاؤں والوں کو اِس سے کوئی سروکار نہ تھا کہ بجلی کب آتی اور کب جاتی ہے — صدیوں سے اندھیرے میں جینے کی عادت جو پڑ چکی تھی۔ بہرحال، جب وہ گھر سے نکلی تو شروع میں کچھ نظر نہ آیا۔ لالٹین کی چمک سے آنکھیں چندھیا رہی تھیں، اور اُوپر سے آنسوؤں کی نمی۔ مگر تھوڑی دیر میں اندھیرے میں بھی گاؤں کی گلی کے کنکر پتھر اور گھاس اُسے دکھائی دینے لگے۔

وہ جلد از جلد گاؤں کی حدود سے نکل جانا چاہتی تھی، سو بیگ سر پر رکھ لیا اور ساڑی ذرا اُوپر اٹھا کر کمر میں كھونس لی۔ لمبے لمبے ڈگ بھرتی چل رہی تھی کہ دو تین کتے بھونکتے ہوئے اُس کے پیچھے پڑ گئے۔ خوف سے پورا بدن کانپ اٹھا۔ اِتنے میں منگرو کاکا نے کھاٹ پر لیٹے لیٹے ہی لاٹھی زمین پر دو تین بار پٹخی اور "دُر دُر دُر” کی آواز لگائی۔ کتے کیں کیں کرتے دوسری گلی میں بھاگ گئے۔ وہ اب بھی سانس روکے وہیں کھڑی رہی، گھٹنے لرز رہے تھے۔ موبائل بلاؤز میں خاموش (وائبریشن) موڈ پر رکھا ہوا تھا۔ اِتنے میں انوپم کی ایک اور کال آئی، اور موبائل بلاؤز کے اندر ہی کانپ اٹھا۔ اُس اچانک لرزش سے ایک بار پھر خوف نے پورے وجود کو تھرتھرا دیا۔ ماتھے پر پسینے کی بوندیں چھلک آئیں۔انچل سے منہ صاف کیا اور "ڈؤکا بابا" کا نام پکارا، تب کہیں جا کر جان میں جان آئی۔ گاؤں والوں کا یقین تھا کہ ڈؤکا بابا کا نام لیتے ہی ہر بلا ٹل جاتی ہے، بھوت پریت تو قریب بھی نہیں پھٹکتے۔

جب وہ ٹیوب ویل کے پاس پہنچی تو انوپم پہلے سے ہی اُس کا منتظر تھا۔

"اِتنی دیر کیوں لگا دی؟"

وہ کچھ نہ بولی، بس ہانپتی رہی۔ دل چاہتا تھا ذرا سستا لے، مگر انوپم نے کہا: "یہ بیٹھنے اور سستانے کا وقت نہیں، جلدی اسٹیشن پہنچنا ہے — دیکھو، ایک بجنے کو ہے"۔

 "یہاں سے اسٹیشن کتنی دور ہوگا؟” گیانتی نے پوچھا۔

 "یہی کوئی تین چار کلومیٹر، مگر ہمیں کھیتوں کے راستے جانا ہوگا، اِس لیے کچھ وقت زیادہ لگے گا۔

انوپم نے بیگ اٹھا کر سر پر رکھا اور آگے آگے چلنے لگا، گیانتی اُس کے پیچھے پیچھے تیزی سے قدم بڑھانے لگی۔

رات بھیانک، کالی، اور اُس پر ہلکے دُھند کا غبار۔ کھیتوں میں دھان کی کٹائی جاری تھی، کچھ کھیت کٹ بھی چکے تھے۔ سردی کے باعث دونوں کے پاؤں گیلے ہو گئے، چپلوں سے مٹی چپکنے لگی تو چلنا دوبھر ہو گیا۔ اُس نے اپنی اور انوپم کی چپلیں ہاتھ میں لے لیں اور ساڑی گھٹنوں تک موڑ کر کمر میں كھونس لی۔ ٹھنڈی ہوا کمر تک سرایت کر رہی تھی — وہاں تک جہاں ہمیشہ اُسے حرارت کا احساس ہوتا تھا، اب وہ حصہ بھی سُن ہونے لگا تھا۔

اُس برس بھی موسم ایسا ہی تھا — دیوالی بھی اور گودھن (گوبردھن) پوجا بھی۔ سہیلیوں کے ساتھ کتنی دھوم دھام سے منائی تھی وہ! دیوالی سے کہیں زیادہ مزا اُسے گودھن پوجا میں آتا، جب گاؤں کی سب لڑکیاں گودھن بابا کا مجسمہ "پہرووا” سے کوٹتیں۔ پھر ایک مہینے تک "پیڑیوں” کی دھوم — ناچ گانا، ہنسی ٹھٹھول اور بہت کچھ۔ اُسے یاد آیا کہ اکثر لڑکیوں کی کنوار پن اِنہی "پیڑیوں” کی راتوں میں بکھرتی ہے۔ اُس کی بھی وہیں بکھری تھی، جب وہ سولہ برس کی تھی۔ ماں سے کہہ کر نکلی تھی کہ "پیڑیا” جا رہی ہے، مگر وہاں گئی ہی نہیں۔ سہیلی راگنی بھی ساتھ تھی۔ راگنی ہی نے منوج سے ملوایا تھا۔ اُس رات وہ "پیڑیا” کے بجائے منوج کے پاس، تالاب کنارے اَرہر کے کھیت میں گئی تھی۔ کیسی بڑی خطا کی تھی ماں سے جھوٹ بول کر، جبکہ ماں ہمیشہ سمجھاتی رہی تھی — کچھ ایسا نہ کرنا جس سے باپ کی ناک کٹ جائے۔ ناک ہی تو کٹا رہی تھی وہ اُس دن۔ نہیں نہیں، اِس سے ناک تھوڑی کٹتی ہے، یہ تو سب کرتی ہیں — پنکی، مایا، سونی، ممتا… کون بچا ہے اِس سے؟ سب کا حال جانتی ہوں — زمیندار کی بیٹی تو سلیم کو اپنے گھر تک بلاتی ہے، اور ملا جی کی سلمیٰ بھی، جو دن بھر برقعے میں رہتی ہے — کیا اُس نے اُسے اروند سے ملتے نہیں دیکھا؟ اُس کی تو وہ خود چشم دید گواہ ہے۔ کوئی ناک واک نہیں کٹتی، کٹتی ہے تو کٹے — راگنی بھی تو اُس دن ونود کے ساتھ گئی تھی۔ ویسے بھی، کنوار پن اُس کا تھا ہی کب! بڑی بوڑھیوں سے سنا تھا اُس نے کہ جس کا خون نہ نکلے، سمجھو وہ کنواری نہیں۔ اُس کا بھی تو نہ نکلا تھا۔ تو جو جنم سے ہی کنواری نہ ہو، اُس کا کنوار پن ٹوٹے گا بھی کیا؟

"جلدی جلدی چلو! ابھی کافی دور جانا ہے۔"

انوپم کی آواز کانوں سے ٹکرائی تو ہوش لوٹا۔ خود پر ہی شرمندہ ہو اٹھی — ‘دھت! کیا اُلٹی سیدھی سوچیں سوچ رہی ہو!

اب وہ تیز تیز چلنے لگی۔ دائیں بائیں اور پیچھے مڑ کر دیکھا — دور دور تک ویرانی اور اندھیرے کے سوا کچھ نہ تھا۔ فضا میں عجب سکون تھا۔ اُسے لگا ‘گویا وہ اِس پوری کائنات میں تنہا ایک پری ہے، جہاں چاہے پر پھیلا کر اُڑ سکتی ہے’۔ آزادی کی معراج کا احساس جاگا۔ لمبے قدموں کے سبب وہ انوپم کے قریب جا پہنچی۔ دونوں اپنی منزل کی جانب دوڑے چلے جا رہے تھے۔

اُسے یاد آیا کہ گودھن پوجا کے بعد ہی اُس کی شادی اُگرسین سے ہوئی تھی۔ ‘کیسا مردانہ حسن تھا اُس میں، جب اُس کے دَر پر بارات لے کر آیا تھا — گٹھیلا بدن، چھیل چھبیلا… اور اُس کے گھر والوں نے جہیز تک نہ لیا تھا’۔ ایسے لڑکے کے لیے جہیز نہ لینے پر ماں نے باپ سے پوچھا تھا۔ باپ نے بتایا: ‘اُس کی ساس کی بس ایک ہی تمنا ہے — لڑکا سیدھا سادہ ضرور ہے مگر کھیتوں میں محنت خوب کرتا ہے۔ وہ خود بوڑھی ہو چلی ہے، باپ بھی نہیں رہا، ایسے میں بس ایک بہو کا گھر آ جانا، خدمت اور نگہداشت کے لیے، اُسے کافی ہے۔ دان دہیج(جہیز) لے کر کیا کرے گی۔ اور تمہیں تو معلوم ہی ہے، اپنی حیثیت بھی کچھ اچھی نہیں — اِس کے بعد تین اور بیٹیاں بیاہنی ہیں، ایسا موقع ہاتھ سے نکل گیا تو باقیوں کا کیا ہوگا‘۔

سچ ہی تو کہہ رہے تھے ابو — ‘غریب گھر کی بیٹیوں کو بڑے خواب زیب نہیں دیتے۔ اُنہیں یہ حق کہاں کہ اُنہیں اُن کے خوابوں کا شہزادہ ملے۔’ ویسے بھی میرے اُگرسین میں کیا کمی تھی؟

وہ انوپم کے پیچھے دوڑی چلی جا رہی تھی، ایک ایسی دنیا کی امید میں جہاں وہ سب کچھ ملے گا جو وہ چاہتی تھی۔ ‘یہی امید ہے جس کے سہارے انسان جیتا ہے۔ امید نہ ہو تو آدمی کب کا مر چکا ہوتا۔ ویسے اب بھی زندہ کہاں ہے آدمی؟ یہاں تو صرف مردے بستے ہیں، مردے۔ سچ ہی تو ہے — درندگی دیکھ کر بھی چپ سادھ لینے والے، آخر مردے نہیں تو اور کیا ہیں؟’ اُسے یاد آیا کہ کیسے ارچنا بھابھی کو پانڈے، پنڈائن اور اُن کے بیٹے نے مل کر کمرے میں زندہ جلا ڈالا تھا۔ ‘کیا قصور تھا اُن کا؟ یہی نا کہ وہ ایک غریب گھر کی بیٹی تھی، اور نوکری پیشہ لڑکے کے لیے اُس کے ماں باپ منہ مانگا جہیز نہ دے سکے۔ خیر، وہ تو درندے نکلے، مگر باقی لوگ کہاں انسان تھے؟ کیا وہ بھی مردے نہ تھے؟ پولیس نے پوچھ گچھ کی تو کسی کا منہ نہ کھلا، حالانکہ سب جانتے تھے۔ پورے گاؤں سے کوئی آگے نہ آیا — سب کے سب مردے تھے۔ کیا میرا باپ بھی؟ ہاں، شاید وہ بھی… مگر اُس کا کیا قصور، وہ بھی تو غریب ہی تھا۔ اُس نے بس اتنا ہی کہا تھا کہ ہمیں بڑے لوگوں کے درمیان بولنا زیب نہیں دیتا، کیونکہ ذات اور دولت دونوں میں ہم اُن سے کہیں کمتر ہیں‘۔

"یہاں تھوڑی دیر سستا لیتے ہیں” — انوپم ہانپتے ہوئے بولا، بیگ ڈھوتے ڈھوتے اُس کا دم پھول گیا تھا۔

 "ابھی اور کتنی دور جانا ہے؟” گیانتی نے پوچھا۔

 "شاید آدھا راستہ طے کر چکے ہیں… آؤ، یہاں بیٹھو” — اُس نے گیانتی کا ہاتھ تھام کر اپنے پاس بٹھا لیا۔

وہاں ایک کنویں کا چبوترا تھا، دونوں وہیں دم لینے بیٹھ گئے۔

"ڈر تو نہیں لگ رہا نا؟"

"نہیں!… ہاں… تھوڑا تھوڑا…”

 "ڈرو مت، جو ہوگا اچھا ہی ہوگا” — اُس نے گیانتی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف کھینچا، اور وہ اُس کی بانہوں میں سمٹتی چلی گئی — "کیا ہم صحیح کر رہے ہیں؟"

"دیکھو، صحیح غلط جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی، ہر شخص کے اپنے نقطۂ نظر میں سب کچھ درست ہی ہوتا ہے۔ اور اِس دھرتی پر ہر کسی کو سکون سے جینے کا حق ہے، جس کے لیے انسان کبھی نہ کبھی سخت فیصلہ لے ہی لیتا ہے۔""

اُس نے انوپم کی آنکھوں میں جھانکا — کتنا اعتماد چھلکتا تھا اُن میں۔ دل ہی دل میں کہا: ‘میں نے اپنے آپ کو تمہارے سپرد کر دیا ہے، اب سکھ ملے یا دکھ، کوئی فرق نہیں پڑتا‘۔

انوپم نے موبائل میں وقت دیکھا۔ "تین بجنے کو ہیں، چلو چلیں۔” بیگ اٹھا کر سر پر رکھا اور چل پڑا۔ گیانتی نے بھی چپلیں ہاتھ میں تھامیں اور اُس کے پیچھے چل دی۔

دونوں کے پاؤں گھٹنوں تک کیچڑ میں لتھڑے ہوئے تھے۔ ہر قدم پر ‘چھپ چپر چھپ’ کی آواز اُبھرتی۔ اندھیرا ابھی بھی ویسا ہی تھا، مگر اُس کی خاموشی میں اب ہلچل سی گھلنے لگی تھی۔ دور کہیں کتوں کے بھونکنے اور مرغے کی بانگ کی صدائیں وقفے وقفے سے سنائی دے رہی تھیں۔

کتنی خوش تھی وہ جب سسرال میں پہلا قدم رکھا تھا! اُسے دیکھنے کتنی لڑکیاں امڈ آئی تھیں، کچھ بوڑھی اور ادھیڑ عمر عورتیں بھی۔ سب نے تعریفوں کے پل باندھ دیے تھے۔ ‘ہلدی کی مالش سے چہرے پر ایک عجب چمک اُبھر آئی تھی، سانولے رنگ میں گھلی ہلدی اور اُوپر سے کاجل بھری آنکھیں’۔ اُسے دیکھ کر یقیناً دوسری لڑکیوں کے دل میں رشک کی لہر ضرور اُٹھی ہوگی۔ تبھی تو برابر سے گزرتے گرسین کو دیکھ کرحلاقہ نے چٹکی لی تھی: "گرسین بابو چھپ چھپ کر شیو جی کو بھانگ دھتورا چڑھاتے ہوں گے، تبھی تو ایسی دلہن گھر آئی ہے! ارے، ٹھیک کہہ رہی ہوں نا؟"

دن بھر منہ دکھائی کی رسم نبھاتے نبھاتے وہ تھک چکی تھی، کھانا بھی حلق سے نہ اُترا۔ ماں باپ کی یاد شدت سے ستا رہی تھی، اور یہ سوچ کر دل دھڑکنے لگا کہ ‘ابھی گرسین آئے گا اور نہ جانے کیا کرے گا۔’ ایک طرف سہاگ رات کی مسرت، تو دوسری طرف انجانا خوف انگڑائیاں لے رہا تھا۔ مگر کب نیند نے آ گھیرا، پتا ہی نہ چلا۔ اُسے آج بھی یاد ہے کہ گرسین اُس رات کمرے میں آیا ہی نہیں تھا۔

دوسری رات کسی نے زبردستی گرسین کو کمرے میں دھکیل کر باہر سے تالا لگا دیا۔ وہ کچھ دیر اِدھر اُدھر ٹہلتا رہا، پھر چٹائی بچھا کر زمین پر ہی لیٹ گیا۔ بہت اصرار پر پلنگ پر آیا بھی تو منہ دوسری طرف موڑ کر سو رہا۔

یوں یہی معمول روز کا بن گیا۔ وہ کمرے میں آتا، ایک کونے کو منہ کیے سو جاتا، اور صبح کب نکل جاتا، خبر تک نہ ہوتی۔ پھر دن بھر کھیتوں میں کمر توڑ محنت، بیلوں کے لیے چارا بھوسا، گوبر گتھار — گھر کے باہر کا تقریباً ہر کام اُسی کے کاندھوں پر تھا۔ کسی سے بات چیت نہیں، کوئی مخاطب ہو بھی تو ‘ہاں ہوں’ کر کے آگے نکل جاتا۔ اِتنا سیدھا اور سادہ لوح کہ گاؤں کا کوئی بھی شخص اُسے بہلا پھسلا کر اپنا کام نکلوا لیتا۔ اور جس دن کوئی کام نہ ہوتا، بیلوں کو ہانک کر چراگاہ کی راہ لیتا۔

آہستہ آہستہ چھ مہینے بیت گئے۔ اِس دوران اُس نے کئی بار، کئی طریقوں سے کوشش کی، یہاں تک کہ خود اپنے اور گرسین کے کپڑے اُتار کر اُس کے ساتھ لیٹی — مگر بے سود۔ ذہن میں یہ سوال کروٹیں لینے لگا: "کہیں یہ نامرد تو نہیں؟” کچھ ہی دنوں میں شک یقین میں بدل گیا، اور اُس نے ٹھان لیا کہ اب کی بار میکے گئی تو پھر لوٹ کر نہیں آئے گی۔

اُس کی بوڑھی ساس اُسے بیٹی کی طرح چاہنے لگی تھی، کیونکہ اُس کے آنے کے بعد گھر کی کایا ہی پلٹ گئی تھی۔ گھر کا سارا بوجھ اکیلے اپنے کاندھوں پر اُٹھا لیا تھا، اور ساس کی سانس اب پھولتی بھی نہ تھی۔ گرسین اور اُس کے درمیان جو بھی چلتا رہا ہو، مگر اُس نے بوڑھی ساس کی خوب خدمت کی — جو مرنے کے کگار پر تھی، وہ اب پھدک پھدک کر چلنے لگی تھی۔ گھر میں محلے کی لڑکیوں کا آنا جانا بڑھ گیا، کچھ لڑکے بھی آتے جو رشتے میں دیور لگتے، اور اُن کے درمیان خوب ہنسی مذاق چلتا۔ یوں دن تو اچھے سے گزر جاتا، مگر رات جیسے اُس کی دشمن بن بیٹھی تھی — ہر رات صدیوں پر بھاری گزرتی۔

اِنہی لڑکے لڑکیوں میں ایک انوپم بھی تھا — گرسین کے چچا کا بیٹا۔ اُس کی دو بڑی بہنیں تھیں، ایک کی شادی ہو چکی تھی بس "گونا" باقی تھا۔ وہ دونوں بھی دن بھر گیانتی کے پاس بیٹھی رہتیں — سلائی بنائی، ہنسی ٹھٹھول اور گاؤں بھر کی باتیں۔ انوپم بھی اُنہی میں گھلا ملا رہتا، مگر وہ اسکول بھی جاتا تھا۔ اُن دنوں بارہویں میں سیکنڈ ڈویژن حاصل کی تھی۔ ‘اب بی اے کے لیے شہر جائے گا، پھر کلکٹری کا امتحان دے گا’ — یہی باتیں اُس کی زبان پر ہر وقت رہتیں۔

اندھیرے کی شدت اب گھٹنے لگی تھی۔ کچھ فاصلے پر ایک گاؤں دکھائی دیا، جہاں سے کہر کو چیرتی بجلی کے بلبوں کی روشنی ستاروں کی طرح ٹمٹما رہی تھی۔ انوپم نے بتایا: "اسٹیشن اُس گاؤں کے پار ہے۔ سیدھا راستہ گاؤں کے بیچوں بیچ سے گزرتا ہے، مگر ہم اُس طرف نہیں جائیں گے۔ یہاں سے تھوڑی دور ریلوے لائن ہے، وہیں سے پٹریوں پر چل کر اسٹیشن پہنچیں گے۔"

 "اب مجھ سے بالکل نہیں چلا جاتا” — گیانتی نے کہا۔

"بس تھوڑا سا فاصلہ رہ گیا ہے۔"

"میں بالکل تھک چکی ہوں۔"

" "تھکن تو مجھے بھی ہے۔

 "تھوڑی دیر یہیں رک جاتے ہیں” — گیانتی نے خواہش ظاہر کی۔

 "پانچ بجنے کو ہیں گیانتی، ہم نہیں رک سکتے۔ اِس وقت لوگ گھروں سے باہر نکلنا شروع کر دیتے ہیں"۔

گیانتی خاموش ہو گئی اور خود ہی آگے بڑھنے لگی۔ آرام نہ کرنے دینے پر اُسے انوپم پر سخت غصہ آ رہا تھا، دل چاہا کہ اُس کے گال پر دو تین زوردار تھپڑ جڑ دے۔

تھپڑ کا خیال آتے ہی اُسے وہ دن یاد آ گیا — ‘اُس دن نہا دھو کر ایک چھوٹے آئینے کے سامنے کھڑی بال سنوار رہی تھی، دروازہ کھلا چھوڑ رکھا تھا۔ اچانک محسوس ہوا کہ گرسین دبے پاؤں کمرے میں آ کر پیچھے آ کھڑا ہوا ہے۔ اُس کی موجودگی کے احساس نے آنکھیں موندنے پر مجبور کر دیا، سوچا: کاش وہ پیچھے سے اپنی مضبوط بانہوں میں بھینچ لے، گرم سانسیں گردن اور کانوں پر برسائے۔ تبھی محسوس ہوا کہ کسی کی بانہیں دونوں طرف سے اُسے جکڑ رہی ہیں، ہتھیلیاں جسم کی گولائیوں کا پیمانہ لے رہی ہیں۔ بائیں کان اور گردن پر گرم سانسیں پھیلیں تو وہ لرز اُٹھی۔ یہی تو وہ چاہتی تھی — آج پہلی بار خود کو شوہر کی بانہوں میں پا کر سرشار ہونے لگی، اِترانا اور شرمانا بھی چاہا، سوچا کیوں نہ دونوں ایک دوسرے کو چھیڑیں، نوک جھونک کریں۔ سو بولتی ہوئی ذرا الگ ہوئی: "کیا کر رہے ہو؟ چھوڑو مجھے۔” بانہیں چھڑا کر گھومی تو سامنے گرسین نہیں، انوپم کھڑا تھا! بدن میں آگ لگ گئی، کھلے بالوں کے بیچ آنکھوں میں خون اُتر آیا، وہ ایک دم سیاہ فام غصے کی مورت بن گئی۔ ایک پل کی تاخیر کے بغیر ہاتھ انوپم کے گال پر جا پڑا — چٹاک! "حرامی، کمینے، دوغلے، لات کھانے والے… شرم نہیں آتی تمہیں!” ایک ہی سانس میں پچاسوں گالیاں اُگل ڈالیں، "ابھی بلاتی ہوں چاچی کو!” انوپم نے اُس کا یہ روپ پہلے کبھی نہ دیکھا تھا، خوف سے کانپنے لگا، معافی کا طلب گار۔ اگلی صبح خبر ملی کہ انوپم بی اے کی تعلیم کے لیے شہر روانہ ہو چکا ہے’۔

اب وہ دونوں ریل کی پٹریوں کے درمیان چل رہے تھے۔ اُجالا اپنے پر پھیلانے کو تھا۔ اندھیرے کے سناٹے میں اب چڑیوں کی چہچہاہٹ گھلنے لگی تھی، مندروں کے لاؤڈ اسپیکر گونج اُٹھے تھا:

"جو یہ پڑھے ہنومان چالیسا
ہوہِں سِدھی ساکھی گوریسا
تلسی داس سدا ہری چیرا
کیجے ناتھ ہردے مہا ڈیرا"

اور دوسری سمت سے ایک اور صدا بلند ہوئی—

!"اللہ…ہو..اکبر…”

اُسے اپنی ماں یاد آنے لگی۔ یاد آیا کہ ‘انوپم کے جانے کے بعد باپ اُسے اپنے ساتھ میکے لے گئے تھے۔ کئی مہینے وہیں ٹھہری، ماں سے دل کا ہر دکھ سکھ کہا، مگر یہ راز نہ کھولا کہ اُس کا شوہر نامرد ہے۔ کچھ دن بعد جب ساس کا واپسی کا پیغام آیا تو وہ ماں کی گود میں سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ رو پڑی تھی’۔

"ماں، مجھے اب وہاں نہیں جانا، کہیں اور بیاہ دو مجھے۔"

 "ایسا نہیں کہتے بیٹا۔ جوڑیاں تو خدا بناتا ہے، ہم بھلا کہاں سے کہیں اور بیاہ دیں تمہیں۔ اب تو وہی گھر تمہارا ہے، اور گرسین ہی پرمیشور۔”

"تم نہیں سمجھتیں ماں، میرا گزارا نہیں ہو سکتا وہاں۔"

"گزارا ہو یا نہ ہو، عورت کو نبھانا ہی پڑتا ہے، یہی اُس کی تقدیر ہے۔"

"مگر میری تقدیر ایسی نہیں۔"

"تو کیا کروگی، تالاب پوکھر دیکھو گی؟"

"نہیں… بھاگ جاؤں گی۔"

"کہاں؟"

"کہیں بھی۔"

 "جب تم نے ٹھان ہی لیا ہے تو ہم کیا کریں؟ جاؤ، بھاگ جاؤ — مگر کہیں اور بیاہنے کی طاقت ہم میں نہیں۔ ہماری اتنی اوقات کہاں؟ تین جوان بیٹیاں ابھی اور بیاہنی ہیں۔”

"ہے بھگوان! کس جنم کا بدلہ لے رہے ہو مجھ سے۔ اِسے ذرا فکر نہیں کہ اِس کی حرکت کے بعد اِس کی بہنوں کا ہاتھ کون تھامے گا۔"

(ماں روتے ہوئے آنچل سے آنسو پونچھنے لگی، اور وہ بھی رو پڑی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی سسرال لوٹنا پڑا تھا اُسے)

دونوں ریل کی پٹریوں پر یوں چل رہے تھے گویا پٹریاں گن رہے ہوں — ایک، دو، تین، چار، ہزار، لاکھ۔ گیانتی کو لگا جیسے یہ پٹریاں نہیں، زندگی کی سیڑھیاں گن رہی ہو۔

آہستہ آہستہ چار برس بیت گئے۔ اب وہ گرسین کے ساتھ کھیتوں میں جانے لگی تھی۔ دونوں جی جان سے کھیتی باڑی میں جتے رہتے۔ اشارہ بھر کافی تھا کہ گرسین فوراً کام نمٹا دیتا۔ اچھی فصل سے گھر میں خوشحالی داخل ہونے لگی، آسائشیں بڑھنے لگیں۔ اُس نے دن سے محبت کرنا سیکھ لیا تھا، مگر ڈائن رات سے اب بھی خوف کھاتی۔ چڑچڑاپن اُس کی سرشت میں گھر کر گیا تھا۔ گاؤں میں سرگوشیاں ہونے لگیں کہ ‘گرسینوا کی گھر والی بانجھ ہے۔’ ساس سے اب اُس کی نہ بنتی، دونوں میں کہا سنی اور گالی گلوچ بھی ہونے لگی تھی، اور موقع پا کر ساس بھی طعنہ دیتی: بانجھ

کوٹے دار کا لڑکا جب بھی اُسے اکیلے دیکھتا، پاس آ کر چھیڑتا: "بھابھی! کہتے ہیں مرد بدل کر دیکھو، سارے دکھ دور ہو جائیں گے۔”

"کتے، حرامی، جا اپنی بہنوں سے کہہ کہ مرد بدلوا لیں” — گالیاں بکتی ٹوٹ پڑتی اُس پر، مگر وہ دانت نکالتا بھاگ جاتا۔

اِسی دوران تینوں بہنوں کی شادیاں ہو گئیں۔ وہ شادیوں کے موقع پر میکے بھی گئی، مگر ماں سے کوئی شکایت نہ کی۔ ادھر انوپم نے بی اے پاس کر لیا اور اب اُسی کالج سے ایم اے کر رہا تھا۔ اِس طویل مدت میں نہ اُس نے انوپم سے کوئی بات کی، نہ انوپم نے کبھی ہمت کی۔ یہاں تک کہ انوپم کی بڑی بہن کے "گونے" کے موقع پر بھی نہیں — دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہی راستہ بدل لیتے۔

وہ واقعہ (جو اُن دونوں کے درمیان پیش آیا تھا) اب تک کسی کے کان تک نہ پہنچا تھا۔

اُن دنوں موبائل کا چلن بڑھ رہا تھا۔ اپنے اردگرد سب سے پہلے اُس نے موبائل انوپم ہی کے ہاتھ میں، اور اُسے بات کرتے دیکھا تھا۔ جب اُس کی بھی خواہش شدت اختیار کر گئی تو چچا جی (انوپم کے والد) کو روپے دے کر بازار سے "نوکیا کا موبائل" منگوایا۔ بات چیت کا سلیقہ تو بہت بعد میں آیا، مگر اُس موبائل میں ایک سانپ والا کھیل تھا، جسے فرصت ملتے ہی کھیلنے لگتی۔ اِس کھیل کی مشق سے ڈائن رات کا قہر کچھ کم پڑنے لگا۔

اب اسٹیشن کی بتیاں نظر آنے لگی تھیں۔ تھکن اور منزل قریب ہونے کے احساس سے وہ کچھ ریلیکس ہو کر پٹریوں پر چل رہے تھے۔ کچھ عورتیں مرد لائن کے دونوں طرف اپنے اپنے حلقوں میں لوٹا لیے بیٹھے تھے۔ اُنہیں دیکھ کر عورتیں تو اُٹھ کھڑی ہوتیں، مگر مرد بڑے بے حیا ہوتے ہیں۔

گیانتی اب بھی اپنی سوچوں کی دنیا میں سیر کر رہی تھی۔ اُسے یاد آیا — ‘اُس رات نیند نہ آئی تھی، جب انوپم کی بہن کے ذریعے اُس کا نمبر ملا تھا۔ عجب بے چینی تھی، سانپ والا کھیل بھی نہ بھایا۔ کئی بار نمبر ملایا اور کاٹ دیا۔ گرسین اُس رات بھی ویسے ہی سویا تھا، اُسے کیا خبر کہ وہ مامتا کے لیے تڑپ رہی ہے۔ بار بار کروٹیں بدلیں، نیند پھر بھی نہ آئی۔ انگڑائی لیتی تو جوڑوں اور پٹھوں میں ایک سکھ بھرا درد اُبھرتا۔ دل میں ہزاروں خیالات ہلورے لیتے، آپس میں گڈمڈ ہوتے رہے۔

آخر اُس نے انوپم کا نمبر ملا ہی لیا۔ اُدھر سے کئی بار ہیلو ہیلو کی صدا آئی۔ وہ چپ چاپ سنتی رہی — انوپم ہی تھا۔

 ‘یہ اُس سے بات کیوں کر رہی ہے؟ کوئی جواب نہ ملا، مگر دل میں ایک اور سوال جاگا — کیوں نہ کرے؟ نہیں تو کس سے کرے؟ کوٹے دار کے لڑکے موہنا سے؟ حرامی، کتا، دیو جیسا لگتا ہے، سانڈ کہیں کا‘۔

یہی کشمکش جاری تھی کہ اُدھر سے کال آ گئی۔ اُٹھائی تو آواز آئی: "ہیلو!… کون؟… ہیلو۔”

"ہیلو! ہاں، میں گیانتی۔"

ایک لمحے کے لیے سناٹا چھا گیا۔

"سنائی نہیں دے رہا کیا؟ میں گیانتی بول رہی ہوں۔"

"ہاں بھابھی، سن رہا ہوں… نمستے!”

"ہاں ہاں! کیسے ہو؟"

"ٹھیک ہوں… مگر آج بھی شرمندہ ہوں، معاف کر دینا بھابھی۔"

"ارے نہیں نہیں، ایسی بات نہ کرو، میں تو وہ سب کب کی بھلا چکی ہوں۔"

اُس دن رات والی ڈائن مر گئی۔ انوپم روز فون کرنے لگا، اور جس رات نہ کرتا وہ خود اُس کا نمبر ملا لیتی۔ اب خود سے زیادہ اُس پر بھروسہ کرنے لگی تھی، اور وہ سب کچھ اُس سے کہنے لگی جو اب تک کسی سے نہ کہہ پائی تھی۔ ایک بار پوچھا بھی تھا: "شادی کروگے مجھ سے؟” جواب میں اُس نے طرح طرح کی مجبوریاں گنوا دیں۔ وہ اُسے مشکل میں نہ ڈالنا چاہتی تھی، سو یہ امید ادھوری ہی رہی۔ مگر جھنجھلاہٹ میں کئی بار کہہ چکی تھی: "وہ یہاں نہیں رہے گی… بھاگ جائے گی یا مر جائے گی۔"

ایک دن انوپم نے بتایا کہ ‘اُس کے کالج کا ایک دوست راجیش ہے، جس کا گاؤں دوسرے ضلع میں کافی دور ہے، اور وہ اُس سے سب کچھ بانٹتا ہے۔ باتوں باتوں میں راجیش نے بتایا کہ اُس کے گاؤں میں ایک پنڈت جی ہیں، جن کی بیوی شادی کے تھوڑے ہی عرصے بعد انتقال کر گئی تھی۔ اُنہیں اپنی بیوی سے اِس قدر محبت تھی کہ دوسری شادی سے انکار کر دیا، مگر ڈھلتی عمر میں تنہائی اب کاٹنے لگی ہے۔ عمر زیادہ نہیں، چالیس کے آس پاس، زمین جائیداد بھی وافر ہے، بس کوئی ہم سفر نہیں۔ اب وہ شادی پر آمادہ ہیں، اور کوئی بھی لڑکی ملے تو قبول ہے، اُنہیں ذات پات کی قید بھی نہیں۔’ انوپم نے کہا: ‘راجیش نے بات چلا دی ہے، بس تمہاری ہاں چاہیے۔’ وہ چپ چاپ سنتی رہی، اُسے یاد ہے اُس پر ایک لفظ بھی نہ بولی تھی۔

کئی دن اُس کا اندرونی کشمکش جاری رہی — ایک طرف روایت سے بغاوت، ماں باپ کی عزت، برادری، محلہ، اور اُس کا بھولوراما؛ ایک ایک کر کے یہ سب اُس کے ذہن پر آدرش اور حقیقت کی صورت میں اُبھرتے اور دَب جاتے۔ دوسری طرف اُس کی اپنی شناخت، آزادی اور خود مختاری اُسے اِس گہرے کنویں سے نکل آنے کی سرگوشیاں کرتی رہیں۔ فیصلہ پھر بھی نہ ہو پا رہا تھا۔ آخر کئی دن کی کشمکش کے بعد اُس نے فون کر کے کہہ ہی دیا: ‘وہ تیار ہے‘۔

اِس کے بعد منصوبہ بنا کہ ‘پنڈت جی اور راجیش قریبی اسٹیشن تک صبح چھ بجے کی گاڑی سے آئیں گے، اور اِدھر انوپم گیانتی کو لے کر رات ہی رات اسٹیشن تک پہنچ جائے گا۔ کسی کو خبر نہ ہوگی کہ گیانتی کہاں گئی، کس نے بھگایا۔ انوپم پر بھی شک نہ جائے گا کیونکہ وہ شہر سے رات کو آ کر گاؤں کے باہر ہی اُس کا منتظر رہے گا‘۔

اب اُسے کچھ فرق نہ پڑتا تھا کہ دن نکلتے ہی گاؤں میں وہ ہر زبان پر ہوگی، اور لوگ اُسے بدچلن، کلٹا، کلمنہی، بانجھ، رنڈی جیسے القاب سے نوازیں گے۔ اِس سے بھی فرق نہ پڑتا کہ کچھ لوگ اُسے مردہ ہی قرار دے دیں گے، کیونکہ اُس کے بھاگنے یا مرنے سے اب اُس کے ماں باپ پر کوئی اثر نہ پڑے گا۔‘

اسٹیشن پہنچ کر انوپم نے موبائل میں دیکھا، چھ بج چکے تھے۔ خدشہ ہوا کہ کہیں گاڑی نہ چھوٹ گئی ہو، بھاگ کر انکوائری آفس گیا، پتا چلا ٹرین آدھے گھنٹے تاخیر سے ہے۔ چین کی سانس آئی۔ یہ ایک چھوٹا سا اسٹیشن تھا، اِکا دُکا گاڑیاں ہی رکتیں۔ کچھ مسافر ٹہل رہے تھے، کچھ آرام گاہ میں کمبل اوڑھے اونگھ رہے تھے۔ پہلے ٹکٹ خریدا، پھر ہاتھ منہ دھویا۔ باہر ایک جھونپڑی نما چائے کی دکان پر دونوں چائے پینے بیٹھ گئے۔ چلتے وقت سردی کا احساس نہ ہوا تھا، مگر اب دونوں کانپ رہے تھے۔ انوپم نے دکاندار سے سگریٹ مانگ کر سلگائی، تب کچھ راحت ملی۔ گیانتی کو چائے ہی سے کام چلانا پڑا۔ ایک لمحے کو خیال آیا: عورتیں سگریٹ کیوں نہیں پیتیں؟

تھوڑی دیر میں اعلان گونجا: "مسافر حضرات توجہ دیں، "مڈوا ڈیہہ" سے لکھنؤ جانے والی کرشک ایکسپریس پلیٹ فارم نمبر دو پر آ رہی ہے۔"

دونوں پلیٹ فارم دو کی جانب بڑھے۔ ہجوم بہت کم تھا، بمشکل پچیس تیس لوگ اِدھر اُدھر بکھرے ہوئے۔ اُن دونوں کے درمیان طویل خاموشی چھائی رہی۔ گیانتی کہیں دور اپنی سوچوں میں کھوئی تھی۔ گرسین کا خیال آیا۔ ‘آخر کیوں چھوڑ رہی ہے اُسے؟ کیا صرف اِس لیے کہ وہ جنسی تعلق قائم نہیں کر سکتا؟ کیا بس یہی رشتے کی بنیاد ہوتی ہے؟ کیا صرف اِسی وجہ سے اِتنے پاکیزہ رشتے کو توڑنا جائز ہے؟ اگر ایسا ہے تو دنیا میں بے شمار لوگ ہیں جن کی شادی ہی نہیں ہوئی، اُن کا کیا؟ اور بہتوں کی شادی ہو کر بھی اولاد نہیں ہوتی، کیا وہ سب ایک دوسرے کو چھوڑ بھاگ جاتے ہیں؟… نہیں نہیں گیانتی، بات صرف یہی نہیں… مگر پھر کیا؟ کیا وہ انسان نہیں؟ کیا اُسے حق نہیں کہ سماجی رشتے نبھائے، محبت کرے؟’ اِس کشمکش نے سر چکرا دیا۔ کیا وہ اُس سے محبت کرتا ہے؟ ہرگز نہیں، اُس میں تو احساس ہی نام کی چیز نہیں۔ مگر اگر بے حس ہے، تو گھر سے نکلتے وقت اُس کی آنکھوں میں آنسو کیوں تھے؟ آخرکار اندر ہی اندر خود سے پوچھ بیٹھی: "گیانتی، آخر اِس میں اُس کا قصور کیا ہے؟” اور خود ہی جواب دیا: "مجھے نہیں معلوم اُس کا کیا قصور ہے! بس اِتنا جانتی ہوں کہ اِس میں میرا کیا قصور ہے؟”

اِتنے میں گڑگڑاتی ٹرین آ کر رُک گئی۔ راجیش اور پنڈت جی اُتر آئے، راجیش نے انوپم سے ہاتھ ملایا، انوپم نے پنڈت جی کو نمسکار کیا۔ پینٹ شرٹ میں ملبوس پنڈت جی نے بال رنگ رکھے تھے، دیکھنے میں معقول لگتے تھے — گندمی رنگت پر سیاہ مونچھیں سج رہی تھیں۔ اُسے پسند آئے یا نہیں، یہ سوچنے کی مہلت ہی نہ ملی — وہ تو گویا سنگ بن کر کھڑی رہ گئی۔ ٹرین نے سیٹی دی تو راجیش نے جلدی سے اُس کا بیگ اُٹھایا اور اندر چڑھ گیا، پنڈت جی بھی سوار ہو گئے۔ انوپم نے تقریباً جھنجھوڑتے ہوئے کہا: "جلدی چڑھو، ٹرین چل پڑی ہے!” مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی، پتھر کا بت بن گئی۔ ٹرین رفتار پکڑ گئی، راجیش اور پنڈت جی چلاتے ہی رہ گئے۔ گیانتی نے کسی کی نہ سنی — ٹرین جا چکی تھی۔

انوپم اب بھی اُسے جھنجھوڑ رہا تھا… اچانک وہ اُس کے قدموں میں گر پڑی اور اُس کے منہ سے بس اِتنا نکلا: "مجھے بس ماں بنا دو… میں اپنے بھولوراما کو چھوڑ کر نہیں جا سکتی۔” اُس کا ہوش رفتہ رفتہ ساتھ چھوڑنے لگا، اور آہستہ آہستہ وہاں لوگوں کا ہجوم جمع ہونے لگا۔

Contact:
Mahesh Singh
Research Scholar & Editor
Parivartan: Quarterly E-Journal of Literary, Cultural and Cinematic Thought
Department of Hindi, Pondicherry University

Puducherry – 605014, India
Mobile: 7598643258, gguhindi@gmail.com

        

ہماری صحافت کا ساتھ دیں

آپ کا تعاون ہمیں دیانت داری کے ساتھ رپورٹنگ جاری رکھنے، کوریج کو مضبوط بنانے، آزادی کو برقرار رکھنے اور ہر روز قابلِ اعتماد معلومات پہنچانے میں مدد دیتا ہے۔

Ad 2

تازہ خبریں

Ad Demo