یہ کالم مذہب کے نہیں، ہمارے سماجی رویّوں کے تضاد کا تجزیہ کرتا ہے جہاں طاقت اخلاق پر غالب آتی ہے
ہمارے سماج کی ایک تلخ اور تکلیف دہ برائی یہ ہے کہ ہم مذہب کو اصول کے طور پر نہیں، بلکہ طاقت اور حیثیت کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔ اگر کوئی غریب آدمی اپنی بھوک مٹانے، گھر کا چولہا جلانے یا اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے کسی ایسے عمل کا سہارا لے جسے ہم ناپسند کرتے ہیں تو فوراً فتوے جاری ہو جاتے ہیں: مشرک، جہنمی، گناہ گار، فاسق۔ لیکن اگر وہی یا اس سے ملتا جلتا عمل کوئی مالدار، بااثر یا مشہور شخص کرے تو اچانک ہمارے دل نرم ہو جاتے ہیں، تاویلات نکل آتی ہیں، مجبوریوں کے جواز پیش کیے جاتے ہیں، اور یہی زبانیں کہتی ہیں: “ان کی مجبوری ہے”، “دل کا حال اللہ جانتا ہے”، “نیت دیکھنی چاہیے”۔
یہ تضاد مذہب میں نہیں، بلکہ ہمارے سماجی رویّوں میں ہے۔ اسلام نے کبھی یہ تعلیم نہیں دی کہ غریب کے لیے حرام اور امیر کے لیے حلال الگ الگ ہوں۔ مگر ہمارے معاشرے میں عملی طور پر یہی ہو رہا ہے۔ غریب اگر کسی بت کے سامنے ہاتھ جوڑ دے تو اسے ایمان سے خارج کرنے کی باتیں ہونے لگتی ہیں، لیکن اگر کوئی دولت مند بت پرستی کرے، یا بت پرست بیوی رکھے، تو وہی لوگ اسے “حالات کا شکار” قرار دیتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کون کیا کر رہا ہے، سوال یہ ہے کہ ایک ہی عمل کو ہم دو مختلف پیمانوں سے کیوں ناپتے ہیں؟
یہی دوہرا معیار اس وقت بھی سامنے آتا ہے جب بات سوشل میڈیا، ریلس یا عوامی اظہار کی ہو۔ اگر کسی صاحبِ حیثیت خاندان کے افراد ریلس بنائیں، ویڈیوز پوسٹ کریں یا خود کو نمایاں کریں تو کوئی مسئلہ نہیں۔ معاشرہ خاموش رہتا ہے، بلکہ بعض اوقات تعریف بھی کرتا ہے۔ لیکن اگر وہی کام کوئی غریب لڑکی یا لڑکا اپنے گھر کا خرچ چلانے کے لیے کرے تو فوراً کردار کشی شروع ہو جاتی ہے: “یہ مجرا کر رہی ہے”، “یہ بے حیائی پھیلا رہا ہے”، “یہ دین سے دور ہے”۔ آخر ایسا کیوں؟ کیا غربت خود ایک جرم بن چکی ہے؟
یہاں یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ نہ تو کسی فرد کو جنت یا جہنم کا سرٹیفکیٹ دینا ہمارا کام ہے، اور نہ ہی کسی کی نیت کا فیصلہ کرنا۔ یہ حق صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کون صحیح ہے اور کون غلط، مسئلہ یہ ہے کہ ہم انصاف کے بجائے تعصب سے فیصلے کر رہے ہیں۔ ہم مذہب کو اخلاقی اصلاح کے بجائے سماجی دباؤ اور طبقاتی تفریق کا ہتھیار بنا چکے ہیں۔
کچھ لوگ اس سوال پر فوراً دفاعی ہو جاتے ہیں اور یہ تاثر دینے لگتے ہیں کہ شاید اسلام بدل گیا ہے، یا (نعوذباللہ) اسلام میں کوئی کمی ہے۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسلام نہ بدلا ہے اور نہ بدل سکتا ہے۔ خود قرآن اس کی گواہی دیتا ہے:
“اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينًا”
یعنی آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، اپنی نعمت پوری کر دی اور اسلام کو تمہارے لیے بطورِ دین پسند کر لیا۔
جب دین مکمل ہے تو پھر نیا اسلام کہاں سے آ گیا؟ کون سا نیا ورژن آ گیا ہے جس میں حرام کو حلال اور حلال کو حرام کر دیا گیا ہو؟ سچ یہ ہے کہ اسلام نہیں بدلا، ہم بدل گئے ہیں۔ ہم نے دین کو اپنے مفادات، اپنی طبقاتی سوچ اور اپنی سہولت کے مطابق ڈھال لیا ہے۔ جہاں طاقتور کو بچانا ہو وہاں “حکمت” یاد آ جاتی ہے، اور جہاں کمزور کو کچلنا ہو وہاں “شریعت” کا ڈنڈا اٹھا لیا جاتا ہے۔
نبی اکرم ﷺ کی زندگی اس کے بالکل برعکس مثال پیش کرتی ہے۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ کمزور، غریب اور مجبور کے حق میں آواز بلند کی، اور طاقتور کو اس کے مقام کی وجہ سے کوئی خصوصی رعایت نہیں دی۔ قانون، اخلاق اور جواب دہی سب کے لیے برابر تھے۔ یہی اسلام کا اصل مزاج ہے—عدل، مساوات اور رحم۔
لہٰذا آج اصل سوال یہ نہیں کہ اسلام کیا کہتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اسلام کو کیسے پیش کر رہے ہیں۔ اگر ہمارا رویہ غریب کے لیے سخت اور امیر کے لیے نرم ہے تو اس کا الزام دین پر نہیں، ہمارے سماج پر آتا ہے۔ ہمیں اپنے رویّوں کا محاسبہ کرنا ہوگا، اپنے دوہرے معیار کو پہچاننا ہوگا، اور یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ دین کی بدنامی ہمارے غلط استعمال سے ہو رہی ہے، نہ کہ دین کی کسی کمی سے۔
جب تک ہم مذہب کو انصاف کے بجائے طاقت کے ساتھ جوڑتے رہیں گے، تب تک یہ سوال اٹھتا رہے گا: “ایسا کیوں ہے؟” اور اس سوال کا جواب بدلنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے خود کو بدلنا ہوگا۔

