انتخابی فہرستوں کی عجلت، ہجوم کی سیاست اور جمہوری اقدار کو درپیش سنگین خطرات کا تنقیدی جائزہ
جمہوری نظام کی بنیاد اس یقین پر قائم ہوتی ہے کہ ہر شہری کا حقِ رائے دہی محفوظ ہے اور انتخابی عمل شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدار ہوگا۔ مگر حالیہ دنوں میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرِ ثانی اور اس کے ساتھ ملک کے مختلف حصوں میں ابھرتی ہوئی ہجوم کی سیاست نے اس یقین کو گہری آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ یہ صورتِ حال محض انتظامی لغزش نہیں بلکہ جمہوری اقدار کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے 12 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں ایس ائی آرکا آغاز ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب کئی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات قریب ہیں۔ یہی عجلت اس پورے عمل کی سب سے بڑی کمزوری بن کر سامنے آئی۔ مغربی بنگال میں بزرگ شہریوں کو دور دراز سماعتی مراکز پر حاضر ہونے پر مجبور کیا گیا، پھر عوامی دباؤ کے تحت گھر بیٹھے تصدیق کا فیصلہ کیا گیا۔ “غیر منسلک” ووٹروں کی سماعت کو پہلے بلایا گیا، پھر مشروط طور پر روک دیا گیا۔ یہ سب فیصلے اس بات کی علامت ہیں کہ منصوبہ بندی کمزور اور نفاذ غیر مربوط تھا۔
سافٹ ویئر کے غیر یکساں استعمال سے مزید ابہام پیدا ہوا۔ بعض ریاستوں میں ڈی ڈپلیکیشن سسٹم ترک کر دیا گیا، کہیں اسے جزوی طور پر اپنایا گیا اور کہیں مختلف نظاموں کو ملا کر ووٹروں کی نشاندہی کی گئی—وہ بھی واضح ضابطے کے بغیر۔ سول سروس افسران کی انجمنوں کی یہ شکایت کہ خودکار نظام کے ذریعے ووٹروں کے نام حذف کر کے انتخابی رجسٹریشن افسران کے قانونی کردار کو نظرانداز کیا گیا، محض تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ آئینی طریقۂ کار سے انحراف ہے۔
اعداد و شمار اس بے ترتیبی کی تصدیق کرتے ہیں۔ عبوری اندازوں کے مطابق چھ کروڑ پچاس لاکھ سے زائد ناموں کا اخراج، اتر پردیش میں دو کروڑ سے زیادہ ناموں کی کٹوتی، اور تمل ناڈو و گجرات جیسے نسبتاً شہری اور مہاجر دوست صوبوں میں لاکھوں ووٹروں کا اخراج، پھر اچانک بڑی تعداد میں “نئے اندراجات”—یہ سب ایک منظم اور تدریجی عمل کے بجائے عجلت میں کیے گئے فیصلوں کا نتیجہ دکھائی دیتے ہیں۔ اگر نظرِ ثانی شفاف اور مرحلہ وار ہوتی تو اس سطح کی افراتفری سے بچا جا سکتا تھا۔
اس سارے عمل میں سب سے تشویشناک پہلو یہ تاثر ہے کہ انتخابی فہرستوں کی تازہ کاری کہیں خاموشی سے شہریت کی جانچ میں تبدیل ہو رہی ہے۔ ووٹر ہونے کا حق اگر شک کی نظر سے دیکھا جائے تو عالمگیر بالغ رائے دہی محض آئینی عبارت رہ جاتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں مضبوط آئینی نگرانی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ تاہم سپریم کورٹ آف انڈیا کی مداخلت تاحال محدود رہی ہے—چند عبوری ریلیف ضرور دیے گئے، مگرنئے ایس ائی آر طریقۂ کار کی جامع آئینی جانچ سامنے نہیں آ سکی۔
انتخابی بے یقینی کے اسی ماحول میں ایک اور خطرناک رجحان نے زور پکڑا ہے ہجوم کی سیاست اور تشدد۔ 2025 کے اواخر میں کیرالہ، اوڈیشہ، تمل ناڈو اور اتراکھنڈ میں پیش آنے والے واقعات نے ثابت کر دیا کہ زبان، علاقے یا حلیے کی بنیاد پر لوگوں کو “غیر ملکی” قرار دے کر تشدد کرنا اب استثنا نہیں رہا۔ یہ تمام متاثرین بھارتی شہری تھے، مگر انہیں “بنگلہ دیشی” یا “چینی” کہہ کر نشانہ بنایا گیا۔ شبہ اور افواہ قانون کی جگہ لے رہے ہیں، اور یہ کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے نہایت خطرناک رجحان ہے۔
یہ واقعات خلا میں جنم نہیں لیتے۔ جب سیاسی بیانیہ خوف کو ہوا دے اور “دراندازی” کو انتخابی فائدے کے لیے مرکزی موضوع بنایا جائے تو اس کے اثرات گلی محلوں تک پہنچتے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے غیر قانونی دراندازی کے خلاف تند و تیز مہم، خصوصاً انتخابی ریاستوں میں، محض سیاسی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک سماجی خطرہ بھی بن چکی ہے۔ اس سے عام شہریوں میں یہ احساس پختہ ہوتا ہے کہ شناخت کی پڑتال اب ریاست کا نہیں، ہجوم کا کام ہے۔
ریاستی پولیس کی جانب سے گرفتاریوں کا عمل ضروری ہے، مگر ناکافی۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے تبھی مؤثر ہوتے ہیں جب سیاسی قیادت واضح اورغیرمبہم پیغام دے کہ کسی بھی شہری کے خلاف ہجوم کی کارروائی ناقابلِ قبول ہے۔ بصورتِ دیگر، سزا و جزا کا نظام بھی خوف اور نفرت کے شور میں دب جاتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ انتخابی فہرستیں اپ ڈیٹ ہونی چاہئیں یا غیر قانونی دراندازی پر بات نہیں ہونی چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب آئینی حدود، شفافیت اور انسانی وقار کے ساتھ ہو رہا ہے؟ جمہوریت میں مقصد وسیلے کو جائز نہیں بناتا۔ اگر وسیلہ ہی غیر منصفانہ ہو تو مقصد اپنی اخلاقی حیثیت کھو دیتا ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ انتخابی ادارے عجلت ترک کریں، یکساں اور شفاف طریقۂ کار اپنائیں، اور ہر ووٹر کو مؤثر سماعت اور اپیل کا حق دیں۔ عدلیہ کو وسیع تر آئینی نگرانی کے ذریعے اس عمل کی خامیوں کی اصلاح کرنی چاہیے، اور سیاسی قیادت کو نفرت انگیز بیانیے سے واضح لاتعلقی اختیار کرنا ہوگی۔ داؤ پر محض چند انتخابات نہیں بلکہ وہ جمہوری اعتماد ہے جس پر پورا نظام قائم ہے۔
:اسی ضمن میں مجھے "باصر سلطان کاظمی” کا شعر یاد آرہا ہے وہ کہتے ہیں
باغ اک ہم کو ملا تھا مگر اس کو افسوس
ہم نے جی بھر کے بگاڑا ہے سنوارا کم ہے
اتنی جلدی نہ بنا رائے مرے بارے میں
ہم نے ہم راہ ابھی وقت گزارا کم ہے
This Article is written by HAJRA KHATOON. MA. B.ED

